Business
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.28 فیصد اضافہ
پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں صفر اعشاریہ دو آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی میں اس اضافے سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر مزید بوجھ پڑا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان میں مہنگائی کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن کے مطابق ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں صفر اعشاریہ دو آٹھ فیصد (0.28%) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک بھر میں ضروری اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں ہلچل مچ گئی ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے ادارہ شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ بنیادی غذائی اجناس، سبزیوں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ان اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے حساس قیمت انڈیکس (SPI) میں یہ نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کہ براہ راست نچلے اور متوسط طبقے کے مالیاتی بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی یہ لہر طویل عرصے سے جاری معاشی چیلنجز کا تسلسل ہے۔ اگرچہ حکومت اور متعلقہ ادارے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، تاہم مارکیٹ میں رسد اور طلب کے درمیان توازن قائم نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو فوری ریلیف ملنا مشکل ہو رہا ہے۔ دوسری جانب عوام نے مہنگائی میں ہونے والے اس مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادارہ شماریات کی اس رپورٹ کے بعد ملک کے تجارتی اور معاشی حلقوں میں بھی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مہنگائی کا یہ گراف کس سمت جائے گا۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک توانائی کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں استحکام نہیں آتا، اس وقت تک مہنگائی کے طوفان سے عام آدمی کو مکمل نجات ملنا ناممکن نظر آتا ہے۔ حکومت کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید موثر حکمت عملی اپنانی ہوگی۔