Business
یونولابس کمپنی میں سندیپ سدرشن کی بطور چیف گروتھ آفیسر تقرری
برطانیہ کی انٹرپرائز انٹیلی جنس انجینئرنگ فرم یونولابس نے سندیپ سدرشن کو اپنا نیا کو فاؤنڈر اور چیف گروتھ آفیسر مقرر کیا ہے۔ وہ کاروباری حکمت عملی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
برطانیہ کی معروف انٹرپرائز انٹیلی جنس انجینئرنگ فرم 'یونولابس' (Unolabs) نے جمعرات کے روز باضابطہ طور پر سندیپ سدرشن کو اپنا نیا کو فاؤنڈر اور چیف گروتھ آفیسر (Chief Growth Officer) مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق سندیپ سدرشن کی یہ تقرری ادارے کی عالمی سطح پر توسیع اور کاروباری ترقی کی حکمت عملیوں کو مزید مستحکم کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یونولابس امید ظاہر کر رہی ہے کہ ان کی قیادت میں فرم ڈیجیٹل مارکیٹ میں نئے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔
نقرری کے حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، سندیپ سدرشن کاروباری ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں تیس سال سے زائد کا بھرپور اور کامیاب تجربہ رکھتے ہیں۔ اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف بین الاقوامی اداروں میں اہم انتظامی عہدوں پر فرائض سرانجام دیے ہیں اور کاروباری اداروں کو جدید ترین تکنیکی حل فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی اس مہارت سے یونولابس کے کلائنٹس کو بھی جدید کاروباری ماڈلز اپنانے میں بڑی مدد ملے گی۔
یونولابس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے سندیپ سدرشن کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی شمولیت سے کمپنی کی ترقی کی رفتار میں نمایاں تیزی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندیپ کا وسیع تجربہ اور مارکیٹ کی گہری سمجھ فرم کو نئے اور چیلنجنگ سیکٹرز میں قدم رکھنے کے قابل بنائے گی۔ اس تقرری سے کمپنی کے اندرونی ڈھانچے کو بھی تقویت ملے گی اور عالمی مارکیٹ میں برطانوی فرم کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔
سندیپ سدرشن نے اس نئی ذمہ داری کو سنبھالنے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونولابس کے ساتھ اس اہم موڑ پر جڑنے پر انتہائی پرجوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کمپنی کے تمام اراکین کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ نئے ترقیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں اور کمپنی کے کلائنٹس کو بہترین خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اس تقرری کے بعد کاروباریحلقوں میں یونولابس کی مستقبل کی حکمت عملیوں کے حوالے سے توقعات کافی بڑھ گئی ہیں۔