LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مہنگائی اور مالیاتی دباؤ سے معاشی بحالی متاثر

News Image
ایک نجی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معاشی بحالی کا عمل جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے سست پڑ گیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ حکومتی قرضوں اور مالیاتی دباؤ کی وجہ سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری شدید متاثر ہو رہی ہے۔
اسلام آباد میں جاری ہونے والی ایک نجی تھنک ٹینک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی ابتدائی معاشی بحالی جو کہ 2025 میں شروع ہوئی تھی، اب جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ اپریل سے جون کے دوران مہنگائی کی شرح دوبارہ دوہرے ہندسے میں داخل ہو کر 10.9 سے 11.7 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) جون تک بڑھ کر 12.8 فیصد ہو گیا۔ اس صورتحال نے افراد اور کاروباری اداروں کی مالیاتی آزادی کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں لیبر فورس کا تقریباً 80 فیصد حصہ غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی کا 94 فیصد حصہ صرف قرضوں کی واپسی اور دفاعی اخراجات پر خرچ ہو رہا ہے، جس کے بعد صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور دیگر اہم عوامی فلاحی کاموں کے لیے محض 6 فیصد رقم بچتی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے بینکنگ کے شعبے سے بڑھتے ہوئے قرضوں کے حصول نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے گنجائش بہت کم کر دی ہے، جس سے معاشی ترقی کے اہداف کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس نظام میں پائی جانے والی عدم مساوات بھی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے جبکہ غیر رسمی شعبے اور مخصوص طبقات کو ٹیکس میں رعایتیں دی جا رہی ہیں۔ پرائم نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پالیسی ردعمل کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تحت کیے جانے والے ری ایکٹو استحکام سے ہٹا کر ایک ایسے لچکدار فریم ورک کی طرف منتقل کرنا ہوگا جو معاشی آزادی اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے۔ تھنک ٹینک نے سفارش کی ہے کہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرتے ہوئے ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی جائے، کارپوریٹ ٹیکس کو کم کیا جائے اور سپر ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معیشت کی حقیقی بحالی کے لیے حکومت کو اپنے قرض لینے کے رجحان کو کم کرنا ہوگا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عام آدمی اور کاروباروں کے لیے مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔