LIVE
Loading Breaking News...

ریکٹی جین تھیراپیٹکس کا آر اے جی 17 فیز ٹو ٹرائل

News Image
ریکٹی جین تھیراپیٹکس نے آر اے جی 17 کے فیز ٹو کلینیکل ٹرائل کے تمام کوہورٹس میں مریضوں کی رجسٹریشن اور پہلی خوراک دینے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ دوا ڈی جنریٹو مرض اے ایل ایس کے علاج میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
نانتونگ، چین - بائیوٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ریکٹی جین تھیراپیٹکس، جو کہ اگلی نسل کے آر این اے علاج کی تیاری میں پیش پیش ہے، نے باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے جدید ترین علاج آر اے جی 17 کے فیز ٹو کلینیکل ٹرائل کے تمام کوہورٹس میں مریضوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تمام رجسٹرڈ مریضوں کو اس دوا کی ابتدائی خوراک دیے جانے کا مرحلہ بھی کامیابی کے ساتھ سر انجام پا چکا ہے، جو کہ اس طبی تحقیق میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ یہ کلینیکل ٹرائل ایسے مریضوں پر مرکوز ہے جو ایس او ڈی ون سے منسلک امیوٹروفک لیٹرل اسکلروسیس (ALS) جیسے موذی اور اعصابی تنزلی کا شکار ہیں۔ اے ایل ایس ایک سنگین مرض ہے جو پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ مریض کی نقل و حرکت اور دیگر جسمانی افعال کمزور ہو جاتے ہیں۔ آر اے جی 17 کو اس مرض کی علامات کو روکنے اور مریضوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس پر میڈیکل ریسرچ کمیونٹی کی بھی گہری نظر ہے۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فیز ٹو ٹرائل میں اس سنگ میل کا عبور کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی جدید بائیوٹیکنالوجی اور آر این اے تھیراپی کے میدان میں تیز رفتار اور مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ جیسے جیسے کلینیکل ٹرائل کے اگلے مراحل آگے بڑھیں گے، ماہرین صحت اس کے نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ نئی دوا ایس او ڈی ون اے ایل ایس کے مریضوں کے لیے کتنی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ ریکٹی جین تھیراپیٹکس آنے والے مہینوں میں ٹرائل کے ڈیٹا کا تجزیہ کرے گی اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ تحقیق اعصابی امراض کے علاج کے روایتی طریقوں میں ایک انقلابی تبدیلی لے کر آئے گی۔ طبی ماہرین نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی جدید تحقیقات سے دنیا بھر میں لاعلاج سمجھی جانے والی بیماریوں کے خلاف جنگ میں نئی راہیں کھل رہی ہیں۔