World
افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ، عالمی تشویش اور سکیورٹی خدات
رپورٹس کے مطابق طالبان کی حکومت میں افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف ممالک نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس اور سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان میں طالبان کی رجیم کے تحت ملک ایک بار پھر علاقائی اور عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال پڑوسی ممالک اور دنیا بھر میں تخریبی کارروائیوں کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے عسکریت پسندوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے بین برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغان حکام پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ سوات بم دھماکے اور دیگر دہشت گردانہ واقعات کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ عناصر خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہیں۔
دوسری جانب، چین اور خطے کے دیگر ممالک نے بھی انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکس کا سختی سے خاتمہ ناگزیر ہے۔ افغان عبوری حکومت (آئی ای اے) نے بظاہر ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہے، تاہم زمینی حقائق اور بین الاقوامی رپورٹس اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں۔
خطے کے امن اور سلامتی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ عالمی برادری افغانستان کی موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ اگر طالبان رجیم نے دہشت گردوں کی سرپرستی ختم نہ کی اور عالمی قوانین کی پاسداری نہ کی، تو یہ صورتحال نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کو ایک طویل المدتی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ پائیدار امن کے لیے افغانستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کا مکمل خاتمہ سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔