LIVE
Loading Breaking News...

جیسن آرڈے کی کیمبرج تقرری پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

News Image
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر جیسن آرڈے کی تقرری کے معاملے پر ماہرینِ تعلیم نے ایک آزادانہ تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ گروپ میں شامل پروفیسر پريامودا گوپال کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو اپنے ہی معاملات کی خود جانچ پڑتال نہیں کرنی چاہیے۔
برطانیہ کی معروف کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر جیسن آرڈے کی تقرری کے معاملے نے تعلیمی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں ماہرینِ تعلیم کے ایک گروپ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تقرری کے پورے عمل کی ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے تاکہ تمام شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ ماہرین کا موقف ہے کہ تعلیمی اداروں میں شفافیت کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ میرٹ کے اصولوں پر عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس گروپ میں شامل ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر پريامودا گوپال نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی کو اپنے ہی فیصلوں کی خود جانچ پڑتال یا مارکنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ادارے خود اپنے اندرونی معاملات کی تحقیقات کرتے ہیں تو اس سے جانبداری کا عنصر پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایک آزاد تھرڈ پارٹی یا کمیٹی اس پورے عمل کا جائزہ لے تاکہ عوام اور تعلیمی برادری کے سامنے سچائی آ سکے۔ یاد رہے کہ جیسن آرڈے کی تقرری کو لے کر پچھले کچھ دنوں سے تعلیمی اور سماجی حلقوں میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین اور حامیوں کے درمیان بحث جاری ہے کہ آیا اس عمل میں تمام ضابطے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔ ماہرینِ تعلیم کا یہ تازہ ترین مطالبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد کیمبرج جیسی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی میں اعلیٰ تقرریوں کے عمل کو مزید شفاف اور تنقید سے بالاتر بنانا ہے۔ فی الحال کیمبرج یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے اس آزادانہ تحقیقات کے مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تعلیمی حلقوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یونیورسٹی اس معاملے میں فوری طور پر کوئی شفاف لائحہ عمل اختیار نہیں کرتی ہے تو اس سے ادارے کی ساکھ پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ تمام تحفظات کو خوش اسلوبی سے دور کیا جائے۔