Crime
ٹک ٹاکر رجب بٹ کیخلاف خواتین پر تشدد اور فائرنگ کا مقدمہ درج
لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں کیخلاف کیفے میں خواتین پر تشدد اور فائرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی عائشہ جٹ کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔
لاہور کے نواحی علاقے نواب ٹاؤن میں پولیس نے معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ اور ان کے نامعلوم ساتھیوں کے خلاف ایک کیفے میں خواتین پر مبینہ تشدد اور ہوائی فائرنگ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں پولیس حکام نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ عائشہ جٹ نامی ایک نوجوان لڑکی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمے کی متن کے مطابق، مدعیہ عائشہ جٹ نے بیان دیا کہ وہ اپنی کچھ سہیلیوں کے ہمراہ کھانا کھانے کے لیے ایک مقامی کیفے میں گئی ہوئی تھیں۔ اسی دوران وہاں موجود دو نوجوانوں اور دو خواتین نے ان کی ایک سہیلی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ جب متاثرہ لڑکیوں نے اس بدمعاشی اور ہراسانی کو روکنے کی کوشش کی تو ملزمان طیش میں آ گئے اور انہوں نے نہ صرف متاثرہ لڑکیوں کو غازی اور نازیبا گالیاں دیں بلکہ ان میں سے ایک خاتون کو تھپڑ بھی مارا۔ اس تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی کے دوران صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب میر شفیع نامی ایک ملزم نے اچانک پسٹل نکالی اور کیفے کے اندر فائرنگ شروع کر دی، جس سے وہاں موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ لڑکی کا یہ بھی الزام ہے کہ اس پورے واقعے کے دوران معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ بھی موقع پر موجود تھے اور وہ اس جھگڑے، حملہ اور تشدد میں براہ راست ملوث تھے۔ پولیس نے متاثرہ عائشہ جٹ کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 354، 506 (B) اور 337-H (2) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ نواب ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔