World
شمالی ایتھوپیا کی جنگ: فانو ملیشیا، ٹی پی ایل ایف اور اریٹیریا کے نئے اتحاد
ایتھوپیا کے شمالی خطے میں ٹی پی ایل ایف، فانو ملیشیا اور اریٹیریا کے درمیان نئے عسکری محاذ کھل رہے ہیں۔ یہ بدلتی ہوئی صف بندی خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
ایتھوپیا کے شمالی خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جہاں اہم عسکری اور سیاسی گروہوں کے مابین نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ ٹیگراۓ پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف)، فانو ملیشیا اور پڑوسی ملک اریٹیریا کے مابین بدلتی ہوئی صف بندی نے خطے میں ایک بار پھر تنازعات کے بادل کھڑے کر دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، یہ تمام قوتیں اپنے اپنے سیاسی اور علاقائی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں جنگی خطوط کو دوبارہ سے کھینچا جا رہا ہے۔
ماضی کے پرتشدد واقعات کے بعد سے شمالی ایتھوپیا میں امن کے قیام کی کوششیں مسلسل چیلنجز کا شکار رہی ہیں۔ فانو ملیشیا اور مرکزی حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی دھڑے بھی میدان میں سرگرم ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے۔ دوسری جانب، اریٹیریا کی اس خطے میں موجودگی اور مبینہ مداخلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جسے علاقائی ممالک اور بین الاقوامی برادری تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان بدلتے ہوئے اتحادوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو یہ پورا خطہ ایک نئے اور وسیع تر انسانی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ فریقین کے مابین عدم اعتماد کی فضا برقرار ہے اور سیاسی گفت و شنید کے دروازے فی الحال بند دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ایتھوپیا کی مرکزی حکومت اور علاقائی طاقتیں کسی سمجھوت علی پر پہنچ پاتی ہیں یا شمالی ایتھوپیا ایک بار پھر طویل خونی تنازع کی طرف بڑھتا ہے۔