Politics
امریکی ویزا کے لیے غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا کی جانچ پڑتال
امریکی محکمہ خارجہ غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا درخواستوں کے دوران ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکریننگ اور جانچ پڑتال کا دائرہ کار وسیع کرنے جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور امریکی قوانین کا احترام کرانا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں کام کرنے کے خواہشمند غیر ملکی صحافیوں کے ویزا کی درخواستوں کے ساتھ اب ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف اقسام کے ویزا درخواست دہندگان کے لیے اپنے سوشل میڈیا پروفائلز کو اسکریننگ کی غرض سے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس نئی پالیسی میں کینیڈا اور میکسیکو کے ورکرز کے لیے مخصوص ویزا زمروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کے سرکاری اکاؤنٹس سے اس حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ کا لنک بھی شیئر کیا گیا ہے، تاہم محکمہ خارجہ نے اندرونی دستاویزات پر تبصرہ نہ کرنے کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اس رپورٹ کی باضابطہ تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اس عمل کو 'آن لائن موجودگی کی اسکریننگ' کہا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ درخواست دہندہ امریکی قانون کے تحت ویزا کا اہل ہے۔ ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خارجہ امریکہ میں داخل ہونے والے ہر غیر ملکی شہری کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ اسکریننگ کر رہا ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ وہ امریکی قوانین اور داخلے کی شرائط کا احترام کریں گے اور ملکی سلامتی، عوامی تحفظ یا قومی مفادات کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسران قومی سلامتی کے تحفظ، فراڈ کی روک تھام اور درخواست دہندگان کا مکمل جائزہ لینے کے لیے مختلف ذرائع اور طریقے بروئے کار لاتے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس نئی پالیسی کا باضابطہ نفاذ کب سے کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے امریکہ میں مقیم غیر ملکی صحافیوں اور طلباء سمیت دیگر ویزا ہولڈرز کے قیام کی مدت سے متعلق قوانین کو بھی مزید سخت کیا تھا۔ جنوری 2025 میں اپنے دوسرے دورِ حکومت کے آغاز کے بعد سے موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن اور ویزا کے فیصلوں میں آن لائن گفتگو اور بیانات کو ایک اہم عامل بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات نے سول سز اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے مابین آزادی اظہار رائے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کی طرف سے یہ بتایا جا چکا ہے کہ وہ تارکین وطن اور ویزا کے خواہش مند افراد کی سوشل میڈیا پوسٹس کا جائزہ لے گی، جن میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا ان میں کوئی مواد یہود دشمنی یا امریکہ مخالف جذبات کی عکاسی تو نہیں کرتا۔ انتظامیہ اس سے قبل بھی فلسطین کے ححق میں سرگرمیوں میں حصہ لینے والے بعض غیر ملکی طلباء کے ویزے منسوخ کر چکی ہے اور کچھ صورتوں میں انہیں ملک بدر کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ اس کے علاوہ، گزشتہ سال اکتوبر میں محکمہ خارجہ نے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل سے متعلق تبصرے کرنے والے چھ غیر ملکی شہریوں کے ویزے بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ایسے ویزا ہولڈرز کی نشاندہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا جو اس واقعے کی مبینہ طور پر تحسین کرتے ہیں۔