LIVE
Loading Breaking News...

جلالپور کینال تنازع: پنجاب اور سندھ آمنے سامنے

News Image
حال ہی میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کی جانے والی جلالپور کینال نے پنجاب اور سندھ کے مابین پانی کی تقسیم پر ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر اعتراضات مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہیں لیکن اس کے باوجود پروجیکٹ پر کام جاری رہا۔
حال ہی میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کی جانے والی جلالپور کینাল نے وفاقی اکائیوں بالخصوص پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کے منصفانہ استعمال اور تقسیم پر ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف دائر کردہ ایک سمری پہلے ہی 2024 سے مشترکہ مفادات کونسل میں التوا کا شکار چلی آ رہی ہے۔ سندھ شروع دن سے ہی اس پروجیکٹ کے خلاف اپنے سنجیدہ تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، جنہیں مبینہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ یہ 117 کلومیٹر طویل مین کینাল جہلم دریا پر واقع رسول بیراج کے دائیں کنارے سے نکالی گئی ہے، جس کا مقصد پوٹھوہار کے علاقے خصوصاً پنڈدادنخان اور خوشاب کے تقریباً 68 ہزار ہیکٹر رقبے کو سیراب کرنا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس منصوبے کے ڈیزائن اور تعمیر کے لیے پنجاب حکومت کو مالیاتی معاونت فراہم کی تھی جبکہ پنجاب کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے لیے اپنے حصے کے پانی کا اندرونی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے استعمال کرے گا۔ دوسری جانب سندھ کا یہ مؤقف ہے کہ پنجاب پہلے ہی 1991 کے واٹر ایکارڈ کے تحت اپنے حصے کا سارا پانی تقسیم کر چکا ہے، اس لیے اضافی پانی کے لیے کسی دوسرے علاقے کے حصے میں کٹوتی کرنا ہوگی جس سے زراعت شدید متاثر ہوگی۔ ارسا نے ستمبر 2014 میں اس شرط پر این او سی جاری کیا تھا کہ پنجاب اپنے ہی حصے کا پانی استعمال کرے گا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ایڈجسٹمنٹ کس طرح ہوگی۔ اس کے علاوہ جلالپور کینال کو سندھ کے نہری نظام کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ واٹر الاؤنس دیا گیا ہے جو کہ فی ایکڑ کے حساب سے کافی زیادہ ہے۔ سندھ اسمبلی پہلے ہی اس منصوبے کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر چکی ہے اور وفاقی حکومت کی مبینہ بے توجہی پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ ابتدائی خریف کے مہینوں میں دریائے سندھ کے نظام میں پانی کی شدید قلت پہلے ہی ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ سندھ کے مطابق، اس سیزن میں کوٹری بیراج پر اکثر 65 فیصد تک پانی کی کمی دیکھی جاتی ہے، اور ایسے حالات میں جلالپور کینال کے ذریعے اضافی پانی کا اخراج سندھ کی فصلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ سندھ کو یہ بھی خدشہ ہے کہ قلت کو پورا کرنے کے لیے چ چشمہ جہلم اور تونسہ پنجند لنک کینلز سے پانی موڑا جائے گا جس سے ڈیلٹا کا ماحول مزید تباہ ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل جیسے آئینی فورم کی موجودگی میں اس طرح کے منصوبوں پر پیش رفت وفاق کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور صوبوں کے درمیان عدم اعتماد کو گہرا کرتی ہے۔