LIVE
Loading Breaking News...

ایف آئی اے نے 5 ملین روپے رشوت کے الزام میں تین کسٹمز افسران گرفتار کر لیے

News Image
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملین روپے کی رشوت کے الزام میں تین کسٹمز افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملین روپے کی رشوت کے الزام میں تین کسٹمز افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی کو محکمے میں شفافیت لانے اور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت اقدامات کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تجارتی امور اور کلیئرنس کے دوران مبینہ طور پر پانچ ملین روپے کی بھاری رقم رشوت کی مد میں وصول کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن ونگ کو موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر اس معاملے کی خفیہ تحقیقات کی گئی تھیں، جن میں الزام ثابت ہونے پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ چھاپہ مار ٹیم نے شواہد کی بنیاد پر تینوں ملزمان کو حراست میں لیا اور ان کے دفاتر سے متعلقہ دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان اس بات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے کہ ان کے اکاؤنٹس اور اثاثوں میں یہ خطیر رقم کہاں سے آئی۔ گرفتار کیے گئے کسٹمز افسران کے خلاف پاکستان پینل کوڈ اور انسداد بدعنوانی کے قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور انہیں مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث دیگر افراد یا سہولت کاروں کے بارے میں بھی سراغ لگایا جا رہا ہے تاکہ اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے اور قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کارروائی کے بعد کسٹمز ڈیپارٹمنٹ اور دیگر سرکاری اداروں میں کھلبلی مچ گئی ہے جبکہ عوامی حلقوں اور کاروباری برادری کی جانب سے ایف آئی اے کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں اس قسم کی کارروائیاں کرپشن کے خاتمے اور نظام میں بہتری لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں تاکہ ملک میں شفاف اور منصفانہ تجارتی ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔