LIVE
Loading Breaking News...

وفاقی صحت کے حکام اور اے آئی کمپنیوں کی بند کمرے میں ملاقاتیں

News Image
وفاقی صحت کے حکام نے مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ بند کمرے میں اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد طبی شعبے میں پالیسی سازی اور شفافیت کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
امریکہ میں وفاقی صحت کے حکام نے گزشتہ ماہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے ہیڈ کوارٹر کے اندر ایک نجی تقریب میں دس بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رہنماؤں کے ساتھ بند کمرے میں اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو تیزی سے وسعت دینا اور اس ضمن میں درپیش چلیکنجز سے نمٹنا تھا۔ تاہم، ان خفیہ ملاقاتوں کے انعقاد کے بعد ماہرین اور مبصرین کی جانب سے پالیسی سازی کے عمل میں شفافیت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں اس بات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا کہ کس طرح اے آئی کے جدید الگورتھمز کو طبی تشخیص، ادویات کی تیاری اور مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام میں بہتر انداز میں ضم کیا جا سکتا ہے۔ ایف ڈی اے اور سینٹرز فار میڈی کیئر اینڈ میڈی کএইڈ سروسز (سی ایم ایس) کے اعلیٰ حکام اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں تاکہ طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ تاہم، اس طرح کے حساس فیصلوں کے لیے نجی اور بند کمرے کے اجلاسوں کے انعقاد پر عوامی حلقوں اور پالیسی سازوں کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ صحت عامہ جیسے اہم ترین شعبے میں پالیسی سازی کا عمل مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے اور اس میں تمام متعلقہ فریقین بالخصوص مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کہیں ان نجی ملاقاتوں کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تجارتی مفادات کو عوام کی فلاح و بہبود پر فوقیت نہ مل جائے۔ مستقبل میں اس حوالے سے مزید لائحہ عمل طے کرنے کے لیے وفاقی ادارے دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ قانون ساز بھی اب اس معاملے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا نفاذ بلاشبہ ایک انقلابی قدم ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ جڑے ہوئے اخلاقی اور قانونی سوالات کا حل تلاش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ صحت کے حکام اس معاملے پر مزید وضاحتیں پیش کریں گے تاکہ عوامی اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔