Business
ڈی بی ایس بینک اور اے آئی کا کردار: فیس انکم میں اضافہ
ڈی بی ایس کے چیف ایگزیکٹو نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب بینک کی فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں باضابطہ طور پر حصہ ڈال رہی ہے۔ بینک کا ویلتھ مینجمنٹ کا شعبہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس کے اثاثے پہلی بار 500 ارب سنگاپور ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔
سنگاپور کے معروف ادارے ڈی بی ایس (DBS) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اب باضابطہ طور پر بینک کی فیس کی آمدنی میں ترقی کا باعث بننے لگی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بینکنگ کے شعبے میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے مثبت نتائج اب مالیاتی اعداد و شمار میں بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی ادارے روایتی طریقوں سے ہٹ کر اب ڈیجیٹل اور خودکار نظاموں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
بینک کے مالیاتی امور پر بات کرتے ہوئے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈی بی ایس کا ویلتھ مینجمنٹ کا شعبہ اس سال کی پہلی ششماہی میں انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس شعبے کے تحت زیر انتظام کل اثاثے پہلی بار تاریخ میں 500 ارب سنگاپور ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اتنی بڑی رقم کا حصول اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ صارفین کا بینک کی خدمات اور اس کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر مکمل اعتماد قائم ہے۔
اس کامیابی کے پس منظر میں جہاں ایک طرف بہترین مارکیٹ اسٹریٹجی کارفرما ہے، وہیں دوسری طرف ٹیکنالوجی کا موثر استعمال بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ٹولز گاہکوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، ان کی ضروریات کو سمجھنے اور بہتر مالیاتی مشورے فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف بینک کی اندرونی کارکردگی بہتر ہوئی ہے بلکہ گاہکوں کو بھی زیادہ تیز رفتار اور جدید خدمات مل رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار مالیاتی منڈیوں میں مزید بڑھے گا۔ ڈی بی ایس جیسے ادارے اس ٹیکنالوجی کو اپنا کر اپنے مسابقتی فوائد کو مستحکم کر رہے ہیں۔ اگرچہ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تناؤ اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال موجود ہے، تاہم ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بینک اس چیلنج سے کامیابی سے نبردآزما ہیں اور ان کی آمدنی کے ذرائع میں بھی پائیدار اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔