World
ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران جنگی اسلحے کی کمی کی خبروں پر ردعمل اور لیکرز کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا ہے کہ حساس معلومات لیک کرنے والے افراد کو تلاش کر کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی یا جنگ کی صورت میں امریکہ کے پاس جنگی munitions اور میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی دفاعی ذخائر مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ملک کو کسی بھی قسم کی قلت کا سامنا نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے بعد وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون میں ہلچل مچ گئی ہے اور اعلیٰ سطح کے اجلاس طلب کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ اور پینٹاگون کے حکام کے درمیان میزائلوں کی قلت کے خدشات پر کچھ اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اور پینٹاگون کے سربراہ کے درمیان کسی قسم کا کوئی تنازع نہیں ہے۔ انہوں نے معروف میڈیا اداروں کی طرف سے شائع کی جانے والی خبروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی من گھڑت کہانیاں ملک کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے بعد امریکی صدر نے سخت گیر مؤقف اپناتے ہوئے ان تمام ذرائع اور افراد کو تلاش کرنے کا تہیہ کر لیا ہے جنہوں نے حساس سرکاری معلومات اور اندرونی میٹنگز کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کیں۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ان لیکرز کو ڈھونڈ کر کٹہرے میں لائیں گے اور انہیں جیل کی ہوا کھلائیں گے۔ پینٹاگون نے بھی اندرونی طور پر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اجلاس منعقد کیے ہیں تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ خفیہ معلومات باہر کیسے گئیں۔
اس تمام صورتحال نے واشنگٹن کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ Mا دی ہے۔ جہاں ایک طرف انتظامیہ اندرونی لیکس کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف دفاعی ماہرین مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں امریکی فوجی تیاریوں اور وسائل کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔