World
لندن میں کھڑے ہو کر پینے کی پالیسی پر تنازعہ، کونسل کو تنقید کا سامنا
برطانیہ میں ویسٹمنسٹر کونسل کی جانب سے لائسنسنگ پالیسی کو اپ ڈیٹ کرنے کے منصوبے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت عوامی مقامات پر کھڑے ہو کر مشروبات پینے کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط تجویز کیے گئے ہیں۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے علاقے وسطی لندن میں ویسٹمنسٹر کونسل کو اس وقت شدید عوامی اور انتظامی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب اس نے اپنی لائسنسنگ پالیسی کو اپ ڈیٹ کرنے کے نئے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس نئی پالیسی میں مبینہ طور پر عوامی مقامات اور بارز کے باہر کھڑے ہو کر مشروبات پینے کے حوالے سے سخت شرائط عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس نے شہر کے تاجروں اور عام شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کونسل کی جانب سے یہ اقدام شہر میں نظم و ضبط بہتر بنانے اور عوامی مقامات پر بدنظمی کو روکنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے کاروباری سرگرمیوں بالخصوص پبز اور کیفے کلچر کو شدید نقصان پہنچے گا۔ منڈی کے ماہرین اور مقامی تاجروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے سیاحت اور رات کی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ لندن کی پہچان یہاں کے روایتی پبز اور کھلے ماحول میں میل جول سے جڑی ہے۔ کونسل کے حکام کا مؤقف ہے کہ وہ شہر کے رہائشیوں کے سکون کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے تمام فریقین سے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ ایک ایسا درمیانی راستہ نکالا جا سکے جو کاروباری اداروں اور مقامی مکینوں دونوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ اس متنازعہ پالیسی کے خلاف عوامی حلقوں میں بحث کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں کونسل کے اجلاس میں اس پر مزید گرما گرم بحث متوقع ہے جہاں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اس پالیسی کو جوں کا توں نافذ کیا جائے گا یا اس میں تر ترمیم کی جائے گی۔