LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کا ن لیگ پر وزیراعظم شہباز شریف کو کمزور کرنے کا الزام

News Image
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ کے اندر موجود کچھ عناصر وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور اتحادیوں کے درمیان اختلافات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں انتخابی عمل اور مبینہ دھاندلی پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے اندر کچھ مخصوص عناصر وزیراعظم شہباز شریف کو کمزور کر رہے ہیں اور ان کے اور سیاسی اتحادیوں کے درمیان دراڑیں ڈال رہے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے ارادے اچھے ہیں اور وہ ایک اچھے انسان ہیں، لیکن ان کے اردگرد موجود لوگوں کے ارادے خراب ہیں جس کی وجہ سے وزیراعظم کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کے خاتمے کا الٹی میٹم خود نہیں دیا بلکہ ن لیگ کے اندر موجود یہی عناصر حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی معرکہ کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا ایک بڑا دھڑا وزیراعظم کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنے ہی اتحادیوں کے خلاف صف آراء دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کشمیر کی تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ انتخابات چھ مراحل میں کرائے جائیں؟ اگر کشمیر ایک ہے تو انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات کے مراحل کا مقصد دراصل دھاندلی کرنا ہے کیونکہ حکمران جماعت کو معلوم تھا کہ ابتدائی نشستیں ان کی جیب میں ہیں۔ کشمیر میں جاری انتخابی عمل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے میرپور اور مظفرآباد کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور پرتشدد ہتھکنڈوں کا بھی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات تین مرحلوں میں منعقد ہو رہے ہیں جن میں سے میرپور اور مظفرآباد ڈویژن کے پولنگ کے مراحل پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے کے تحت پونچ ڈویژن میں پولنگ شیڈول کی گئی تھی تاہم امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے شیڈول میں کچھ ترامیم بھی کی ہیں۔ دریں اثنا، علاقے میں طویل عرصے سے عوامی سطح پر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس پر سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔