Business
پاکستان میں تیل کا بحران اور گرین انرجی کے متبادل ذرائع کی ضرورت
ممالک میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور درآمدی ایندھن پر گہرے انحصار کے باعث پاکستان کو شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کا پائیدار حل سولر انرجی، بیٹری اسٹوریج اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف فوری منتقلی میں مضمر ہے۔
پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال دو ہزار چھبیس میں بڑھ کر انتالیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جو گزشتہ چار سالوں میں سب سے بلند ترین سطح ہے۔ اس صورتحال نے ملکی معیشت کی درآمدی توانائی پر گہرے ڈھانچہ جاتی انحصار کو کھل کر بے نقاب کر دیا ہے۔ صرف پٹرولیم گروپ کا درآمدی بل سولہ ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ خام تیل کی درآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کو مہنگے اور غیر یقینی فوسل فیول سے نکال کر سستی سبز توانائی کی طرف منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور نامناسب توانائی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو بارہا انتہائی مہنگے داموں تیل اور ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ عالمی سطح پر جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس اور جغرافیائی سیاسی خطرات نے ملکی درآمدی بل میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے توانائی کا شعبہ بیرونی عدم توازن کا سب سے بڑا محرک بن چکا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر بیرونی جھٹکے کا جواب درآمدات میں کٹوتی کے ذریعے نہیں دے سکتا۔ اس کا پائیدار حل یہی ہے کہ سولر پاور، بیٹری اسٹوریج اور الیکٹرک موبিলিٹی میں سرمایہ کاری کو تیز کر کے درآمدی ایندھن پر مستقل انحصار کو کم کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر سولر پینلز، انورٹرز، لیتھیم آئن اور سوڈیم آئن بیٹریوں، ای بائیکس اور چھوٹی برقی گاڑیوں پر پانچ سال کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کرے۔ اس نوعیت کی پالیسی سے نہ صرف توانائی کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ پٹرولیم کی درآمدات گھٹنے سے ملکی برآمدی مسابقت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ سولر پینل ریڈی ایشن رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، اس کے باوجود ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے اس صلاحیت کا پورا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ توانائی کے ان متبادل اور سستے ذرائع کو فروغ دے کر نہ صرف صنعتی پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ گرین انرجی کے فروغ کے لیے جامع اصلاحات نافذ کرے اور اسٹیٹ بینک کے ذریعے سازگار ماحول فراہم کرے تاکہ ملک معاشی بحران سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔