LIVE
Loading Breaking News...

دیہی صحت پروگرام اور ایچ ای آر ریپلیسمنٹ کیپ کی تفصیلات

News Image
امریکہ میں پچاس ارب ڈالر کے دیہی صحت پروگرام کے تحت ٹیکنالوجی کے فنڈز کو نئی سمت دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد روایتی سسٹمز کے بجائے باہمی مواصلت اور جدید ڈیجیٹل سلوشنز کو فروغ دینا ہے۔
امریکہ میں صحت کے شعبے سے جڑے پچاس ارب ڈالر کے ایک بڑے وفاقی پروگرام کے تحت دیہی علاقوں میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اس پروگرام کے نئے اور سخت قوانین نے روایتی مفروضات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ اس میں اس بڑی خریداری کو خارج کر دیا گیا ہے جس کی عام طور پر توقع کی جا رہی تھی۔ اس تبدیلی کے بعد دیہی صحت کے نظام سے وابستہ ادارے اب بالکل نئے طریقہ کار اور شراکت داروں کی تلاش پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد دیہی ہسپتالوں میں محض سسٹمز کی تبدیلی کے بجائے ان کے درمیان باہمی مواصلت اور ڈیٹا کے تبادلے کو بہتر بنانا ہے۔ اس سے پہلے بیشتر ماہرین کا خیال تھا کہ اس خطیر رقم کا بڑا حصہ روایتی الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ (ایچ ای آر) سسٹمز کی خریداری اور تنصیب پر خرچ کیا جائے گا، لیکن نئے ضوابط نے اس سوچ کو بدل ڈالا ہے۔ اب فنڈز کی تقسیم کے ضابطے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ٹیکنالوجی ایسی ہو جو مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ آسانی سے مطابقت رکھ سکے۔ اس نئی حکمت عملی کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال کا معیار بلند ہونے کی توقع ہے، کیونکہ اب توجہ الگ تھلگ سسٹمز کی بجائے مربوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مرکوز ہے۔ ہسپتالوں اور صحت کے اداروں کو اب ایسے ٹیکنالوجی وینڈرز کا انتخاب کرنا ہوگا جو انٹرآپریبلٹی کے سخت معیارات پر پورے اترتے ہوں، تاکہ مریضوں کا ڈیٹا ایک سے دوسرے ادارے تک بروقت اور محفوظ طریقے سے منتقل ہو سکے۔