Business
جولائی میں چھوٹے کاروباری اداروں کے مالیاتی کیسز میں 24 فیصد اضافہ
رواں سال جولائی کے دوران چھوٹے کاروباروں کی جانب سے دیوالیہ پن سے بچنے کی خصوصی قانونی شق کے تحت درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس کے اسی ماہ کے مقابلے میں اس بار 24 فیصد زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
نئی دہلی یا عالمی تجارتی مرکز سے موصول ہونے والی معاشی رپورٹس کے مطابق رواں برس جولائی کے مہینے میں چھوٹے کاروباری اداروں کی جانب سے دائر کیے جانے والے مالیاتی کیسز اور دیوالیہ پن سے متعلقہ قانونی شقوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی 2026ء کے دوران کل 234 ذیلی شق انتخابات ریکارڈ کیے گئے جو کہ گزشتہ سال کے اسی ماہ یعنی جولائی 2025ء کے دوران درج ہونے والے 188 کیسز کے مقابلے میں پورے 24 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار چھوٹے کاروباری طبقے کو درپیش موجودہ معاشی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار چلانے والے افراد کو حالیہ برسوں میں مہنگائی، شرح سود میں اتار چڑھاؤ اور صارفین کی قوتِ خرید میں کمی جیسے سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے کاروباری ادارے اپنے مالیاتی ڈھگز کو سنبھالنے اور قرضوں کی تنظیم نو کے لیے عدالتوں اور قانونی طریقہ کار کا سہارا لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ خصوصی قانونی عمل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو اپنے مالی معاملات کو بہتر کرنے اور بند ہونے سے بچانے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ان درخواستوں میں اضافے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں کاروباری دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم دوسری طرف یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ کاروباری حضرات اپنے مسائل کو چھپانے کے بجائے قانونی اور باقاعدہ طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر معاشی صورتحال میں بہتری نہ آئی اور مالیاتی اداروں کی جانب سے نرمی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو آنے والے مہینوں میں اس قسم کے کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ مالیاتی اداروں کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر چھوٹے کاروباروں کے لیے امدادی پیکج یا آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔