LIVE
Loading Breaking News...

قازقستان میں اے آئی اور سکیورٹی سروس کا انضمام

News Image
قازقستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی سکیورٹی کے تناظر میں قومی سلامتی کے اداروں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں سائبر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور تکنیکی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
موجودہ دور میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی سکیورٹی اور اس میں قومی سلامتی کے اداروں کی شمولیت کوئی انوکھی بات نہیں رہی ہے۔ جیسے جیسے دنیا بھر میں سائبر خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومتیں اپنی تکنیکی اور سکیورٹی حکمت عملیوں کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات کر رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں وسطی ایشیائی ملک قازقستان نے بھی ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنی سلامتی کی خدمات کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے کاروبار اور ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس عمل کو سکیورٹائزیشن کا نام دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملکی سطح پر ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ممکنہ ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے نہ صرف ملکی سلامتی کے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی بلکہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ملکی مفادات کا بہتر دفاع بھی کر سکیں گے۔ اس حوالے سے ملک کے اندرونی اور بیرونی تکنیکی ذرائع کو مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی ڈیجیٹل مداخلت کو بروقت روکا جا سکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بغیر جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے، اس لیے سکیورٹی کے شعبے میں اس کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم اس نوعیت کے اقدامات پر عالمی سطح پر کچھ تحفظات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، بالخصوص پرائیویسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے، لیکن قازقستان کی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ فیصلے مکمل طور پر قومی مفاد اور سلامتی کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ ماڈل دیگرممالک کے لیے کس قسم کی مثال قائم کرتا ہے اور آیا یہ ٹیکنالوجی ملکی سلامتی کے لیے کتنی سودمند ثابت ہوتی ہے۔