LIVE
Loading Breaking News...

اوریگون قتل کیس: تین دہائیوں بعد پڑوسی گرفتار

News Image
امریکہ کی ریاست اوریگون میں تین دہائیوں قبل 85 سالہ بزرگ خاتون کے پراسرار قتل کے کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مقتولہ کے 66 سالہ سابق پڑوسی کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی اور فارنزک شواہد کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔
امریکہ کی ریاست اوریگون میں پولیس نے تین دہائیوں پرانے ایک انتہائی سنسنی خیز اور پراسرار قتل کے کیس میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 66 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری 1994 میں پیش آنے والے اس دلخراش واقعے کے سلسلے میں عمل میں آئی ہے جس میں 85 سالہ بزرگ خاتون کو ان کے ہی گھر میں مردہ پایا گیا تھا۔ اس وقت یہ کیس منطق کو نہ پہنچ سکا اور بالآخر پولیس کے لیے ایک سرد خانہ (کولڈ کیس) بن گیا۔ تفتیش کاروں نے ہمت نہیں ہاری اور طویل عرصے تک اس پر کام جاری رکھا۔ پولیس حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزم کی شناخت رینڈل جوزف گیل کے طور پر ہوئی ہے جو اس المناک واقعے کے وقت مقتولہ کا قریبی پڑوسی تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی ترقی بالخصوص ڈی این اے تجزیے اور فارنزک تکنیک کی بدولت اس پرانے کیس میں اہم شواہد ہاتھ لگے، جن کی بنیاد پر رینڈل کو حراست میں لیا گیا۔ واقعے کے وقت یہ خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی اور لوگ خوف و ہراس کا شکار ہو گئے تھے کہ اتنی عمر رسیدہ خاتون کو اس بے دردی سے کیوں نشانہ بنایا گیا۔ مقتولہ کے لواحقین اور مقامی کمیونٹی نے طویل انتظار کے بعد انصاف کی اُمید پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران مزید حقائق بھی سامنے آئیں گے جو اس بات کی وضاحت کریں گے کہ آخر اس پرانے تنازع یا واقعے کے پیچھے کیا محرکات کارفرما تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس گرفتاری سے نہ صرف پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا گیا ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پرانے جرائم کو بے نقاب کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔