LIVE
Loading Breaking News...

تھائی لینڈ میں اسکول فائرنگ کے بعد سخت گن قوانین کا اعلان

News Image
تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم نے ایک دل دہلا دینے والے اسکول فائرنگ کے واقعے کے بعد ملک میں گن کنٹرول کے سخت نئے قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا مقصد اس طرح کے سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنا اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم نے ملک میں پیش آنے والے ایک انتہائی ہلاکت خیز اور دل دہلا دینے والے اسکول فائرنگ کے واقعے کے بعد اسلحے کے قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حالیہ پرتشدد واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ والدین میں بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں کہ تعلیمی ادارے کتنے محفوظ ہیں۔ حکام کے مطابق اس طرح کے سانحات سے نمٹنے کے لیے اب قانون سازی میں سختی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ ہتھیاروں تک عام لوگوں کی رسائی کو محدود کیا جا سکے۔اس فائرنگ کے واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی تھائی لینڈ میں اسلحے کے پھیلاؤ اور اس کے قوانین پر بحث چھڑ گئی ہے۔ دنیا بھر میں اسکولوں اور پبلک مقامات پر سکیورٹی کے امور پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تھائی حکومت اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کس طرح غیر قانونی اسلحے کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے اور جو افراد قانونی طور پر ہتھیار رکھتے ہیں، ان کے لیے ذہنی صحت کے چیک اپ اور سخت پس منظر کی جانچ پڑتال کو لازمی قرار دیا جائے۔وزیراعظم کی جانب سے نئے قوانین کا یہ وعدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومت فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے اندوہناک واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کو پرامن بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں کابینہ اس نئے قانون کے مسودے پر غور کرے گی جس کے بعد اسے منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔