LIVE
Loading Breaking News...

پولیس کی لاپرواہی اور سائمن لیوی کا قتل کا واقعہ

News Image
میٹروپولیٹن پولیس کے ایک سینئر افسر نے اعتراف کیا ہے کہ شیریل ولکنز کو بچایا جا سکتا تھا اگر پولیس مناسب وقت پر بروقت کارروائی کرتی۔ سائمن لیوی، جو ایک رجسٹرڈ جنسی مجرم تھا، اس کی مجرمانہ غفلت کے باعث مزید حملوں اور قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس کے ایک سینئر افسر نے اعتراف کیا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت اور ذمہ دارانہ اقدامات کرتے تو سائمن لیوی کے ہاتھوں قتل ہونے والی دوسری متاثرہ خاتون شیریل ولکنز کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ یہ واقعہ پولیس کے نظام میں موجود سنگین سقم اور مجرموں کی کڑی نگرانی میں ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سائمن لیوی، جو کہ پہلے سے ہی ایک رجسٹرڈ جنسی مجرم تھا، اس کے باوجود معاشرے میں آزادانہ گھوم رہا تھا اور پولیس اس کی نقل و حرکت پر مکمل قابو پانے میں ناکام رہی۔ تحقیقات کے مطابق، سائمن لیوی نے اپنے گھناؤنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھا اور متعدد خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ شیریل ولکنز اس کی درندگی کا نشانہ بننے والی دوسری بڑی مثال ہیں جن کی جان اس وقت گئی جب پولیس کے پاس پہلے سے ہی اس مجرم کی مجرمانہ تاریخ موجود تھی۔ سینئر افسر کی جانب سے یہ اعتراف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوامی سطح پر پولیس کی کارکردگی اور جوابدہی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے ابتدائی مراحل میں ہی اس شخص کو سختی سے مانیٹر کیا ہوتا تو آج یہ قیمتی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ اس واقعے کے بعد برطانوی نظامِ انصاف اور پولیسنگ کے طریقہ کار پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کس طرح ایک نامزد جنسی مجرم قانون کی گرفت سے بچ کر اس طرح کے ہولناک جرائم کو انجام دینے میں کامیاب ہو گیا۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کیسز میں انتظامی غفلت کا سدباب کرنے کے لیے اداروں کو مزید سخت پروٹوکول اپنانے کی ضرورت ہے۔ پولیس حکام نے اس معاملے کی اندرونی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس سطح پر غفلت برتی گئی اور مستقبل میں اس قسم کے سانحات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔