World
لندن میں عمارت سے کھڑکی گرنے سے ہلاکت، دو کمپنیاں قصوروار
برطانوی دارالحکومت لندن میں ایک پرتعیش بلند و بالا عمارت سے شیشہ گرنے کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے۔ عدالت نے اس المناک حادثے میں دو کمپنیوں کو لاپرواہی کا مرتکب اور قصوروار قرار دے دیا ہے۔
برطانوی دارالحکومت لندن کے علاقے البرٹ ایمبینکمنٹ پر واقع ایک پرتعیش اور بلند و بالا عمارت سے شیشہ گرنے کے المناک واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے میک فیرس کے کیس میں عدالت نے اہم فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں میک فیرس موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے، جس نے مقامی شہریوں اور سکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اتنی بلندی سے وزنی شیشہ نیچے راہگیر پر کیسے آ گرا۔
عدالت میں ہونے والی طویل سماعت اور شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ عمارت کے رکھ رکھاؤ اور تعمیراتی حفاظتی انتظامات میں سنگین غفلت برتی گئی تھی۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ دونوں کمپنیاں اس حادثے کو روکنے کے لیے درکار بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ عدالت نے تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد دونوں کمپنیوں کو اس المناک ہلاکت کا ذمہ دار اور قصوروار قرار دے دیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد عوامی حلقوں اور مزدور یونینز کی جانب سے بلند و بالا عمارات کی تعمیر اور ان کے شیشوں کی سکیورٹی کے حوالے سے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پرتعیش ٹاورز میں حفاظتی پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ متوفی میک فیرس کے لواحقین اور عوام کی طرف سے اس عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ مجرم کمپنیوں کو ان کی غفلت کی عبرتناک سزا دی جائے گی۔