World
آرمینیا کے مذہبی رہنما کیتھولک کریکن دوم کا ٹرائل اور حکومت سے کشیدگی
آرمینیا کی اپوسٹولک چرچ کے سربراہ کیتھولک کریکن دوم اور دیگر چھ علمائے دین کو ایک معزول بشپ کو بحال نہ کرنے پر قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔ یہ معاملہ وزیراعظم کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیاسی اور مذہبی تنازع کا حصہ ہے۔
آرمینیا میں سیاسی اور مذہبی حلقوں کے درمیان کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب آرمینیا کے اپوسٹولک چرچ کے روحانی پیشوا کیتھولک کریکن دوم اور چھ دیگر پادریوں کو سنگین الزامات کے تحت ٹرائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مذہبی قیادت اور ملک کے وزیراعظم کے درمیان تعلقات میں تلخی عروج پر پہنچ گئی۔ پادریوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے بشپ کو ان کے عہدے پر دوبارہ بحال کرنے سے انکار کیا اور ناکام رہے جنہیں پہلے ہی منصب سے ہٹایا جا چکا تھا۔ اس عدالتی اور انتظامی کسا کشی نے ملک بھر میں ایک نیا سیاسی پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ وزیراعظم کے ناقدین اور چرچ کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ کارروائی سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے تاکہ مذہبی اداروں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کلیسیا کے ارکان بھی ملکی قوانین سے بالاتر نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بحران آرمینیا کے اندرونی استحکام کے لیے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے کیونکہ تاریخی طور پر آرمینیا کا اپوسٹولک چرچ ملکی شناخت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان جاری رسہ کشی کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں مزید ہلچل متوقع ہے جبکہ عامتہ الناس میں بھی اس صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔