LIVE
Loading Breaking News...

پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس، مفتاح اسماعیل کا اہم انکشاف

News Image
سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا ہے کہ پیٹرول کی اصل درآمدی لاگت دو سو روپے فی لیٹر ہے جبکہ عوام کو اس پر ایک سو چالیس روپے تک کے ٹیکسز برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال اور ٹیکسوں کے بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور اس پر عائد ٹیکسوں کے حوالے سے ایک اہم اور چشم کشا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پیٹرول کی اصل درآمدی لاگت صرف دو سو روپے فی لیٹر بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستانی عوام کو پمپوں پر یہی پیٹرول بہت زیادہ مہنگا ملتا ہے کیونکہ اس پر لگ بھگ ایک سو چالیس روپے تک کے مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز عائد ہیں۔ مفتاح اسماعیل کے مطابق یہ صورتحال عام آدمی کی جیب پر ایک بہت بڑا معاشی بوجھ ہے جو ملک میں مہنگائی کے طوفان کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ معاشی ماہرین اور سابق وزیرِ خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے اندر مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر ہے اور عوام پہلے ہی بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے شدید پریشان ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹیشن، اشیائے خوردونوش اور دیگر تمام بنیادی شعبوں پر پڑتا ہے۔ ایک سو چالیس روپے فی لیٹر ٹیکس کی وصولی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومتی آمدنی کا ایک بڑا حصہ براہِ راست ایندھن پر عائد ٹیکسوں سے آ رہا ہے، جس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار ہے۔ مفتاح اسماعیل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو اپنے اخراجات میں کمی لانی چاہیے اور معاشی اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ اس طرح کے بھاری بھرکم ٹیکسوں کا بوجھ براہِ راست غریب اور متوسط طبقے پر نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیٹرولیم سیکٹر اور ٹیکس کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو ملک میں صنعتی ترقی اور برآمدات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے عام آدمی کا جینا مزید محال ہو جائے گا۔