Business
آر بی آئی کے نئے قرض وصولی اصول، ساہوکاروں کے لیے سخت ہدایات
ریزرو بینک آف انڈیا نے قرض لینے والوں کو ہراساں کیے جانے سے بچانے کے لیے قرض کی وصولی کے سخت ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ نئے قواعد کے تحت قرض دہندگان کو مخصوص اوقات کے دوران ہی رابطہ کرنے اور طے شدہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کی ہدایت کی گئی ہے۔
بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے قرض لینے والوں اور ضامنوں کو قرض کی وصولی کے عمل کے دوران مبینہ ہراسانی اور نامناسب رویے سے بچانے کے لیے جامع اور سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کو اب سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وصولی کے دوران ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کریں اور کسی بھی غیر قانونی ہتھکنڈے سے گریز کریں۔ نئے قوانین کا مقصد عام شہریوں کو ذہنی تناؤ اور ناخوشگوار صورتحال سے محفوظ رکھنا ہے۔
نئے جاری کردہ اصولوں کے تحت اب کوئی بھی قرض دہندہ یا ایجنٹ صبح آٹھ بجے سے پہلے اور شام سات بجے کے بعد قرض دار یا اس کے ضامن کے گھر کا دورہ نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس دوران ٹیلی فون کالز کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قرض داروں کی ذاتی زندگی اور سکون میں بلاجواز مداخلت نہ کی جائے۔ آر بی آئی کا ماننا ہے کہ بروقت ادائیگیاں اہم ہیں لیکن اس کے ساتھ صارفین کے انسانی حقوق اور وقار کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اس کے علاوہ، بینکوں اور غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں (این بی ایف سی) کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ریکوری ایجنٹس کی تربیت کا خاص خیال رکھیں تاکہ وہ قرض داروں کے ساتھ پیشہ ورانہ اور شائستہ رویہ اختیار کریں۔ اگر کوئی ادارہ یا اس کا نمائندہ ان نئے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت ضابطہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔ مالیاتی ماہرین نے آر بی آئی کے اس قدم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عوام کا بینکنگ سسٹم پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔