AI
اوپن اے آئی کا ایپل کے خلاف تجارتی راز کے مقدمے پر عدالت سے رجوع
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے وفاقی عدالت سے درخواست کی ہے کہ ایپل کے تجارتی راز چرانے کے الزام میں دائر مقدمے کو مسترد کر دیا جائے۔ کمپنی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایپل کے تمام الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں کام کرنے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی اوپن اے آئی نے ایک وفاقی جج سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ ایپل انک کی جانب سے دائر کیے جانے والے مقدمے کو فوری طور پر خارج کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایپل نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے اس کے تجارتی راز چرائے ہیں، تاہم مصنوعی ذہانت کی اس کمپنی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اوپن اے آئی کے قانونی مشیروں اور وکلاء نے عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئی فون بنانے والی معروف کمپنی ایپل کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ وکلاء کے مطابق یہ مقدمہ حقیقت کے برعکس ہے اور اس کا مقصد صرف اوپن اے آئی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور مصنوعی ذہانت کی صنعت میں بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول کو متاثر کرنا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی ان دو بڑی کمپنیوں کے درمیان قانونی محاذ آرائی نے اس وقت شدت اختیار کر لی جب ایپل نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کی ملکیتی تکنیکی معلومات اور تجارتی راز غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تمام امور میں شفافیت اور قانون کی پاسداری کو یقینی بناتی ہے اور اس پر لگائے گئے تمام الزامات قانونی اور تکنیکی طور پر کمزور ہیں۔
متوقع ہے کہ عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا اس مقدمے کو آگے بڑھایا جائے یا اوپن اے آئی کی درخواست پر اسے خارج کر دیا جائے۔ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس قانونی تنازعے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے فیصلے کے مصنوعی ذہانت اور کارپوریٹ سیکورٹی کے شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔