Technology
کینٹکی میں خاتون نے اے آئی ڈیٹا سینٹر کی 26 ملین ڈالر کی پیشکش ٹھکرا دی
امریکہ کے علاقے کینٹکی میں ایک نامعلوم تکنیکی کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے لیے ایک خاندانی فارم کا نصف حصہ خریدنے کی پیشکش کی تھی۔ زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو سے تقریباً دس گنا زیادہ رقم یعنی چھبیس ملین ڈالر کی یہ پیشکش فارم کے مالک نے صریحاً مسترد کر دی۔
امریکہ کی ریاست کینٹکی کے دیہی علاقے میسن کاؤنٹی کے قریب مےسویل میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک نامعلوم ٹیکنالوجی کمپنی نے خاندانی فارم کے نصف حصے کے بدلے چھبیس ملین ڈالر کی خطیر رقم کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو سے تقریباً دس گنا زیادہ تھی، تاہم فارم کی مالکن نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی خاندانی میراث اور زرعی زمین کو ترجیح دی۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار زمین کے حصول اور اس کے مقامی اثرات پر ایک نئی بحث چھوٹی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جن کے لیے وسیع و عریض رقبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں مذکورہ تکنیکی فرم نے کینٹکی کے اس پرامن دیہی علاقے کا رخ کیا تھا جہاں روایتی زراعت کو اب خطرات لاحق ہوتے جا رہے ہیں۔ زمین کے مالکان کا یہ عزم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تمام لوگ مالی منافع کے لیے اپنی آبائی زمینیں اور قدرتی ماحول فروخت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس فیصلے کی مقامی سطح پر بھی زبردست پذیرائی کی جا رہی ہے کیونکہ کسان برادری اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی انڈسٹری کی ترقی کے ساتھ ساتھ توانائی اور زمین کا حصول ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، اور کینٹکی کے اس واقعے نے کارپوریٹ طاقت اور مقامی اقدار کے درمیان کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے۔ فارم کی مالکن کے اس دوٹوک انکار نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کچھ چیزیں مال و دولت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہیں، جن میں خاندانی روایات اور ماحول کا تحفظ سرفہرست ہے۔