World
برطانیہ میں جنگلات کی آگ سے بچاؤ: قومی سروس اور معاشرتی تیاری
برطانیہ میں بڑھتی ہوئی جنگلات کی آگ کے پیش نظر ایک قومی سروس بنانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ائیرکرافٹ خریدنے کے بجائے پورے معاشرے کو آگ سے بچاؤ کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
برطانیہ میں حالیہ برسوں کے دوران جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں ایک سرشار قومی وائلڈ فائر سروس قائم کرنے کے مطالبات میں تیزی آ رہی ہے۔ عوام اور ماہرین جب اسپین اور دیگر ممالک میں جنگلات کی آگ بجھانے کے لیے خصوصی طیاروں اور فضائی آلات کا استعمال دیکھتے ہیں، تو ان کا یہ ردعمل بالکل فطری معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ کو بھی اس نوعیت کے جدید آلات خریدنے چاہئیں۔ تاہم، ماہرین کا اصرار ہے کہ صرف فائر فائٹنگ طیارے یا اضافی عملہ اس سنگین مسئلے کا واحد اور مستقل حل نہیں ہے۔
حالیہ برسوں کے سائنسی تجزیے اور مشاہدات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگلات کی آگ کا دائرہ کار اب صرف جنگلی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ انسانی بستیوں اور دیہات کے قریب تک پہنچ چکا ہے۔ اس خطرے سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہونے کے لیے برطانیہ کو ایک ایسی فائر ریسیلینٹ (آگ سے محفوظ) سوسائٹی یا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں حکومت، مقامی انتظامیہ اور عام شہریوں سمیت معاشرے کا ہر طبقہ شامل ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمینی سطح پر منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جائے، عمارتوں اور گھروں کی تعمیر میں آگ سے بچاؤ کے اصولوں کو اپنایا جائے، اور خطرناک پودوں یا سوکھی گھاس کو بروقت صاف کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق، آگ لگنے کے بعد اس پر قابو پانے کے لیے کوششیں کرنے سے کہیں زیادہ بہتر اور کم خرچ طریقہ یہ ہے کہ آگ لگنے کے خطرات کو پہلے ہی سے کم از کم سطح پر لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے کمیونیکیشن اور پبلک اوئرنس پروگرامز شروع کیے جانے چاہئیں تاکہ عام لوگ آگ کے خطرات سے آگاہ ہوں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اس کے علاوہ، جنگلات کے قریب رہنے والی کمیونٹیز کو تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ ہنگامی صورتحال میں ابتدائی اقدامات خود کر سکیں۔
حکومت اور پالیسی ساز اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ محض عارضی اور فوری اقدامات پر انحصار کرنے کی بجائے طویل مدتی پالیسیاں مرتب کریں۔ اس جامع حکمت عملی کے تحت جہاں ایک طرف جدید آلات اور فضائی مدد کو یقینی بنایا جائے گا، وہیں دوسری طرف بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کر کے ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جائے گا جو مستقبل میں جنگلات کی آگ کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہو۔