LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی و اسرائیلی جہازوں پر پابندی اور ٹول کا فیصلہ

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز سے امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے جہازوں سے اس اہم آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے پر ٹول فیس وصول کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔
تہران کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور ممکنہ طور پر کشیدگی بڑھانے والے اقدام کے تحت آبنائے ہرمز میں امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس بحری گزرگاہ کو بین الاقوامی تجارت اور خصوصاً خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے دنیا کی اہم ترین شریان مانا جاتا ہے، جہاں ایران کی جانب سے نئی پالیسیاں زیر غور لائی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کا مقصد خطے میں غیر ملکی بالخصوص امریکی اور اسرائیلی بحری سرگرمیوں کو محدود کرنا اور تزویراتی دباؤ بڑھانا ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف مخصوص ممالک کے جہازوں کا داخلہ ممنوع قرار دینے کی بات کی جا رہی ہے بلکہ دیگر تمام بین الاقوامی بحری جہازوں سے بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مد میں ایک مخصوص ٹول یا فیس وصول کرنے کا لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی بحری امور کے ماہرین نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے خلیجی خطے میں کشیدگی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ توانائی کی فراہمی حاصل کرتا ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا ٹول ٹیکس کا نفاذ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین کو براہ راست متاثر کر سکتا ہے۔ایران کے اس ممکنہ اقدام کے بعد دنیا بھر کے تجارتی اور عسکری حلقوں کی نظریں اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ تہران کی جانب سے اس منصوبے کے نفاذ کے حتمی طریقہ کار اور قانونی پہلوؤں پر تاحال مشاورت جاری ہے، تاہم عالمی منڈی اور سیاسی محاذ پر اس خبر نے ہلچل مچا دی ہے اور مختلف ممالک اس پر اپنے ردعمل کی تیاری کر رہے ہیں۔