Pakistan
پاکستان میں مون سون بارشوں سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 150 سے تجاوز
پاکستان میں جاری شدید مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ملک بھر میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 150 سے زائد ہو گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس سے انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان بھر میں جاری مون سون کی تباہ کن بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں اب تک مون سون بارشوں کے دوران ہونے والے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو (150) سے تجاوز کر گئی ہے۔ شدید بارشوں کا یہ سلسلہ ملک کے طول و عرض میں جاری ہے جس نے نظامِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم مسلسل بارشوں کے باعث مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
راولپنڈی اور اس کے گردونواح میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے بعد نالہ لئی (Leh Nullah) میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے، جس سے نالہ لئی کے اطراف کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور نالے کے قریب ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے شمالی ضلع چترال میں بھی بارشوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جہاں مقامی حلقوں کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چترال کو فوری طور پر آفت زدہ (Calamity-hit) قرار دیا جائے تاکہ وہاں متاثرہ خاندانوں کی بہتر انداز میں مالی معاونت اور بحالی کا کام شروع کیا جا سکے۔
دریائے سندھ کے بالائی اور زیریں حصوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چشمہ اور جناح بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں پانی کی آمد و اخراج پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور تمام بیراجوں کے حفاظتی بند مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
اس درمیان محکمہ موسمیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے ملک کے بیشتر حصوں میں مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں ہونے والی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔