LIVE
Loading Breaking News...

صدر ٹرمپ کے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے والے نئے ایگزیکٹو آرڈرز

News Image
امریکی صدر نے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے اور برتھ ٹورزم کے خلاف نئے ایگزیکٹو آرڈرز جاری کر دیے ہیں جن پر قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نے ان احکامات کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ناکام قرار دیا ہے۔
امریکہ کے سابقہ اور موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر شہریت کا قانون مرکزِ بحث بن گیا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے اور نام نهاد برتھ ٹورزم کے خاتمے کے لیے سخت ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام امریکی آئین کی چودہویں ترمیم کے تحت حاصل ہونے والے اس بنیادی حق کو چیلنج کرتا ہے جس کے تحت امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر بچہ خود بخود امریکی شہری بن جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں ایک طوفانِ بدتمیزی اور قانونی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ انسانی حقوق کی معروف تنظیم امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نے ان احکامات کو کڑے الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایگزیکٹو آرڈرز آئین کے سراسر خلاف ہیں اور عدالتوں میں ان کا ٹک پانا ناممکن ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے احکامات سے نہ صرف تارکینِ وطن کے حقوق متاثر ہوں گے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی شدید تناؤ پیدا ہو گا کیونکہ یہ امریکی قانونی تاریخ کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ ان احکامات کا نفاذ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے قبل بھی عدالتیں پیدائشی شہریت کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور آئینی شقوں کی موجودگی میں ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے اس حق کو ختم کرنا ایک طویل قانونی جنگ کا متقاضی ہو گا۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ عدالتوں میں شدید بحث کا موضوع بنے گا جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ صدارتی اختیارات آئینی حقوق پر کہاں تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔