LIVE
Loading Breaking News...

نئی ای وی پالیسی میں تاخیر، حکومت اور انڈسٹری آمنے سامنے

News Image
نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کو حتمی شکل دینے میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے حکومت اور آٹوموبائل انڈسٹری کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ صنعت سے وابستہ افراد نے اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان میں الیکٹرک وہیکل یعنی ای وی پالیسی کی عدم تشکیل اور اس میں ہونے والی مسلسل تاخیر کی وجہ سے حکومت اور آٹوموبائل انڈسٹری کے درمیان اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کا مسودہ طویل عرصے سے التواء کا شکار ہے جس کی وجہ سے ملک میں ماحول دوست اور جدید گاڑیوں کے فروغ کا عمل شدید سست پڑ چکا ہے۔ آٹوموبائل سیکٹر کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے تعطل کے باعث پوری انڈسٹری کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور سرمایہ کار بھی اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔ دوسری جانب صنعت کے اہم رہنماؤں نے اس معاملے پر وزیرِ اعظم پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دی جا سکے۔ اس پالیسی میں ہونے والی تاخیر کے اسباب پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور صنعت کاروں کے درمیان مطالبات میں بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ ایک طرف آٹوموبائل سیکٹر حکومت سے سازگار ماحول اور ٹیکس میں نمایاں چھوٹ کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار اور درآمد کو فروغ مل سکے، وہیں دوسری طرف بعض تجاویز پر حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ خصوصاً دس لاکھ روپے سے زائد قیمت والی گاڑیوں کے لیے تجویز کردہ ٹیکس ریلیف پر حکومتی سطح پر مالیاتی ترجیحات اور محصولات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے پالیسی کا حتمی اعلان بار بار مؤخر ہو رہا ہے۔ موجودہ اقتصادی پس منظر میں یہ پالیسی پاکستان کے لیے طویل المدتی بنیادوں پر توانائی کے درآمدی بل میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ تاہم پالیسی سازی کے عمل میں بیوروکریٹک تاخیر اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اس کے فوائد عوام تک نہیں پہنچ पा رہے ہیں۔ انڈسٹری کے ماہرین کا اس بات پر زور ہے کہ اگر حکومت واقعی ملک میں گرین انرجی اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کو ترویج دینا چاہتی ہے تو اسے تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر ایک متوازن لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں اگر حکومت نے آٹوموبائل سیکٹر کے ساتھ مل کر کوئی درمیانی راستہ نہ نکالا تو یہ پالیسی مزید تعطل کا شکار ہوسکتی ہے جس سے نہ صرف مقامی صنعت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ملک میں نئی ٹیکنالوجی کے نفاذ کا خواب بھی ادھورا رہ جائے گا۔ تمام نگاہیں اب حکومتی اقدامات اور اس طویل انتظار کے بعد آنے والی ممکنہ پالیسی پر مرکوز ہیں جو اس سیکٹر کا مستقبل طے کرے گی۔