Business
اگست کے بجلی بلوں میں 75 پیسے فی یونٹ ایف سی اے عائد
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جون کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگست کے بلوں میں 75 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے ملک بھر کے بجلی صارفین پر تقریبا نو ارب اسی کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعہ کے روز ایک نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے بجلی کے صارفین پر اگست کے بلنگ ماہ کے دوران 75 پیسے فی یونٹ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں تقریبا نو ارب اسی کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ جولائی کے مقابلے میں اگست میں اوسطاً 41 پیسے فی یونٹ زیادہ ہوگی، کیونکہ جولائی میں ایف سی اے 34 پیسے فی یونٹ تھی۔ نیپرا کے مطابق یہ مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ جون کے مہینے کے لیے ہے جو تمام صارفین پر لاگو ہوگی۔ اس میں لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ بجلی کے صارفین کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ فیصلہ ملک بھر کی تمام ڈسٹ্রি بیوشن کمپنیوں (ڈسکو) کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی یکساں طور پر نافذ العمل ہوگا۔ ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ یہ اضافی چارجز اگست 2026 کے بجلی کے بلوں میں ظاہر کیے جائیں گے تاکہ ماہانہ ایندھن کے اخراجات کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جون کے لیے فیول چارجز کی مد میں ایک روپے بیس پیسے فی یونٹ اضافی ایف سی اے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم نیپرا نے تمام تکنیکی اور مالیاتی ایڈجسٹمنٹس کے بعد اس کلیم کو کم کر کے 75 پیسے فی یونٹ منظور کیا۔ پاور ڈویژن اور متعلقہ اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ جون کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار میں تخمینہ شدہ سطح کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ چھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ، جزوی لوڈنگ چارجز کے حوالے سے بھی نیپرا کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا، جو کہ سولر جنریشن اور طلب میں کمی کی وجہ سے سامنے آئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے شمسی توانائی کے رجحان اور چھتوں پر لگے سোলার سسٹمز کی وجہ سے دن کے اوقات میں گرڈ کی بجلی کی طلب میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے روایتی پاور پلانٹس کو جزوی لوڈ پر چلانا پڑتا ہے۔ حکومت اور ریگولیٹری حکام کا مؤقف ہے کہ ملکی توانائی کے شعبے کے قواعد و ضوابط کے تحت ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر ماہانہ بنیادوں پر خودکار نظام کے ذریعے صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔ اگست کے مہینے میں ان اضافی واجبات کی وصولی سے بجلی صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے مستقبل کے لیے توانائی کے شعبے کے چواڑوں سے نبردآزما ہونے کیلیے نئی حکمت عملیوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔