Technology
ایلِس ایچ پارکر کی گیس سنٹرل ہیٹنگ سسٹم کی ایجاد کی کہانی
ایلِس ایچ پارکر نے 1919 میں گیس سے چلنے والے سنٹرل ہیٹنگ سسٹم کا پیٹنٹ حاصل کیا جو جدید ہیٹنگ سسٹمز کی بنیاد بنا۔ ان کی اس شاندار ایجاد نے گھریلو زندگی اور ٹیکنالوجی کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
تاریخ میں کئی ایسے نام ہیں جنہوں نے اپنی ذہانت اور بصیرت سے انسانی زندگی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر ڈالا، اور ان ہی میں ایک نمایاں نام ایلِس ایچ پارکر کا ہے۔ سن 1919 میں ایک افریقی نژاد امریکی خاتون موجد ایلِس ایچ پارکر نے گیس سے چلنے والے سینٹرل ہیٹنگ سسٹم کا ایک انقلابی ڈیزائن تیار کیا اور اس کا باقاعدہ امریکی پیٹنٹ حاصل کیا۔ اس دور میں جب گھروں کو گرم رکھنے کے لیے لکڑی اور کوئلے کا استعمال کیا جاتا تھا، پارکر کی یہ ایجاد ایک معجزے سے کم نہیں تھی۔
ایلِس ایچ پارکر کے اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ قدرتی گیس پر چلتا تھا اور اس میں متعدد برنرز، ہیٹ ایکسچینج اور الگ الگ ائیر ڈکٹ یعنی ہوا کی ترسیل کے نلکے شامل تھے۔ اس ڈیزائن نے بنیادی طور پر اس تصور کو جنم دیا جسے آج ہم جدید سینٹرل ہیٹنگ سسٹمز کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کے اس سائنسی قدم نے نہ صرف سردیوں کے موسم میں گھروں کو گرم رکھنے کے طریقوں کو جدید بنایا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے انجینئرنگ اور حرارتی نظام کی ترقی کی راہیں بھی ہموار کیں۔
خواتین اور بالخصوص افریقی نژاد امریکی خواتین کے لیے اس دور میں سائنسی اور تکنیکی میدان میں نام بنانا انتہائی مشکل تھا، مگر پارکر نے اپنی محنت اور قابلیت سے یہ ثابت کر دیا کہ جدت کسی خاص طبقے کی اجارہ داری نہیں۔ اگرچہ ان کے ابتدائی ڈیزائن کو فوری طور پر بڑے پیمانے پر تجارتی شکل نہیں دی جا سکی، لیکن ان کے اصول اور نظریات مستقبل کے تمام جدید حرارتی سسٹمز کی بنیاد بنے۔ آج جب بھی دنیا بھر میں سردیوں سے بچنے کے لیے گیس یا سینٹرل ہیٹنگ کا استعمال کیا جاتا ہے، تو ایلِس ایچ پارکر کا نام تاریخ کے ماتھے پر ایک روشن ستارے کی طرح چمکتا ہے۔