World
پولیس افسر کیمروں کا غلط استعمال، بوائے فرینڈ کی سابقہ اہلیہ کا تعاقب
نارتھ کیرولائنا میں ایک پولیس افسر کو گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں پڑھنے والے خودکار کیمروں کا غلط استعمال کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمہ پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کی سابقہ اہلیہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ان ٹیکنالوجی آلات کا سہارا لیا۔
امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولائنا میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نجی نوعیت کی نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک پولیس افسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کی سابقہ بیوی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے خودکار لائسنس پلیٹ ریڈر سسٹمز کا ناجائز استعمال کیا۔ یہ ٹیکنالوجی عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جرائم کی روک تھام اور مشکوک گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزمہ نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے فلاک سیفٹی کیمرہ نیٹ ورک کا رخ اپنی ذاتی ترجیحات کی طرف موڑ دیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر نے متعدد بار اس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی گاڑی کی آمد و رفت کا ریکارڈ نکالا اور اس کی ذاتی زندگی میں مداخلت کی۔ اس طرح کے خودکار کیمرے شہروں کی اہم شاہراہوں پر نصب ہوتے ہیں جو سیکنڈوں میں گاڑیوں کے نمبر پلیٹ سکین کر کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کرتے ہیں، مگر ان تک رسائی صرف مجاز پولیس اہلکاروں کو حاصل ہوتی ہے۔
اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی طاقتور ٹیکنالوجی کا غلط ہاتھوں میں جانا عام شہریوں کی ذاتی زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ محکمہ پولیس نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور اسے عہدے سے ہٹا کر عدالتی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس محکموں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام تک رسائی انتہائی محدود اور سخت مانیٹرنگ کے تحت ہو۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے اندرونی احتساب کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی اہلکار ذاتی رنجشوں یا مقاصد کے لیے سرکاری ذرائع اور ڈیجیٹل وسائل کا غلط استعمال نہ کر سکے۔