LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبوں اور گورننس اصلاحات پر قومی بحث

News Image
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور اس سے متعلق سیاسی بحث پر مختلف رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم اعلامیے میں جامع قومی مذاکرات، گورننس کی اصلاحات اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی امور اور گورننس کی اصلاحات پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان بار کونسل نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور اس کے طریقہ کار پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان جامع قومی مذاکرات شروع کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ بار کونسل کا موقف ہے کہ ایسے حساس اور اہم آئینی و انتظامی امور پر جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے وسیع تر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس پس منظر میں مختلف سیاسی رہنماؤں اور آئینی ماہرین کی آراء بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں وفاق اور صوبائی سطح پر گورننس کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبے کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر کسی بھی قسم کی جلدی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے انتظامی اور سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رضا ربانی نے بھی موجودہ حالات میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام توجہ موجودہ صوبائی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ دوسری جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے نچلی سطح پر بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔ اعلامیے کے مطابق جب تک مقامی حکومتوں کے نظام کو آئینی اور مالیاتی طور پر بااختیار نہیں بنایا جاتا، عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے اور جمہوریت کی ثمرات نچلی سطح تک نہیں پہنچ سکتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو باہمی تنازعات سے بالاتر ہو کر ایک وسیع تر فریم ورک کے تحت اصلاحات پر اتفاق کرنا ہوگا تاکہ ریاست کے تمام ادارے مضبوط اور عوام کے لیے جوابدہ بن سکیں۔