Business
سعودی عرب میں وژن 2030 کے تحت 36.3 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری
سعودی عرب نے اپنے وژن 2030 کے تحت اقتصادی اصلاحات کے اگلے مرحلے میں 36.3 ارب ڈالر کی بڑی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حاصل کی ہے۔ اس کامیابی سے مملکت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اور پرکشش عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔
ریاض: سعودی عرب نے اپنے تاریخی ترقیاتی منصوبے 'ویژن 2030' کے اگلے مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے مجموعی طور پر 36.3 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) حاصل کر لی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سنگ میل اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت میں کی جانے والی ساختیاتی اصلاحات اور کاروباری ماحول میں بہتری عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں پوری طرح کامیاب رہی ہے۔ سعودی عرب اس وقت تیزی سے تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی معیشت کو متنوع بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے، جس کے تحت ٹیکنالوجی، سیاحت، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں غیر ملکی اداروں کو شاندار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اس کامیابی کے بعد سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط عالمی سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ خلیجی خطے کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ناطے، مملکت میں شروع کیے جانے والے میگا پروجیکٹس اور تجارتی ضوابط میں لچک نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تمام عمل سے نہ صرف ملکی معیشت کو استحکام مل رہا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں جو کہ نوجوان نسل کے لیے انتہائی خوش آئند ہیں۔
مزید برآں، سعودی عرب کا یہ ماڈل اب ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بھی ایک بہترین مثال بنتا جا رہا ہے کہ کس طرح درست سمت میں منصوبہ بندی اور تجارتی نظم و ضبط کے ذریعے ملکی معیشت کو دنیا کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ ہاسپیٹلٹی اور سیاحت کے شعبے میں ہونے والی ریکارڈ ترقی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس نے سرمایہ کاری کے اس حجم کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آنے والے برسوں میں ویژن 2030 کے تحت مزید بڑے اقتصادی اہداف حاصل کیے جانے کی توقع ہے۔