LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات: تیسرے مرحلے کے شیڈول میں ترامیم اور سیکورٹی خدشات

News Image
آزاد جموں و کشمیر میں قانون اور امن کی صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے تیسرے مرحلے کے شیڈول میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ سیکورٹی خدشات کے باعث دو اضلاع میں دس اگست کو ہونے والی پولنگ کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے انتخابات اور اس سے متعلقہ سیاسی سرگرمیوں کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں انتخابات کے تیسرے مرحلے کے شیڈول میں قانون و امن کے خدشات کے پیش نظر ردوبدل کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور انتخابی عمل کو پرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ اس صورتحال کے درمیان مختلف سیاسی جماعتیں اپنی فتح کے دعوے کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دوسری جانب، انتخابی نتائج کے حوالے سے مختلف حلقوں سے اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق مظفرآباد کے حلقوں میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے، جس سے خطے میں سیاسی مقابلہ سخت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم، انتخابی عمل کے دوران بعض مقامات پر بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی سخت مذمت کی ہے اور شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ ان تمام چیلنجز کے درمیان آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کے شدید خدشات کے تحت دو اضلاع میں دس اگست کو شیڈول پولنگ کو باضابطہ طور پر ملتوی کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ووٹرز اور امیدواروں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور تمام ضروری انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان تبدیلیوں سے انتخابی ماحول پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو صورتحال کے تناظر میں اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔