World
ٹرمپ نے ایران پر حملے کیوں روکے؟ امریکی سفیر کا بڑا انکشاف
امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں تاکہ خطے میں مذاکرات اور سفارتی حل کی گنجائش نکالی جا سکے۔ تہران کا کہنا ہے کہ تنازع کے خاتمے کا فیصلہ اب وہ خود کرے گا جبکہ امریکی انتظامیہ میں گولہ بارود کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی سفارت کاروں اور ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ بمباری کا سلسلہ روک دیا جائے تاکہ سفارتی سطح پر کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔ دوسری جانب تہران کی حکومت نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ خود کرے گی کہ امریکہ کے ساتھ جاری یہ موجودہ تنازع کب اور کیسے ختم ہوگا۔ تہران کے مطابق وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے لیکن سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران گولہ بارود کے کم ہوتے ہوئے ذخائر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان اندرونی خدشات اور سیاسی شخصیات جیسے کہ جے ڈی وینس اور کین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد حملوں کا سلسلہ روکا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روکی گئی ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں مجموعی سکیورٹی کی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے اور آنے والے دنوں میں جنگ بندی کے حوالے سے مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔