Business
میکڈونلڈز کا سپر میکس کے خلاف ٹریڈ مارک کیس میں بڑا قانونی فصیحہ
یورپی یونین کے انٹلیکچوئل پراپرٹی آفس نے فیصلہ دیا ہے کہ آئرش برگر چین سپر میکس کا لوگو میکڈونلڈز کے مشہور بگ میک ٹریڈ مارک کے ساتھ الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سپر میکس کمپنی کو اپنی برانڈنگ کے حوالے سے قانونی محاذ پر ایک اور بڑا دھکا لگا ہے۔
یورپی یونین کے انٹلیکچوئل پراپرٹی آفس (EUIPO) نے فاسٹ فوڈ کی دنیا میں چلنے والی ایک طویل قانونی جنگ میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے آئرش برگر چین سپر میکس کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سپر میکس کا لوگو اور اس کے دیگر تجارتی نشانات میکڈونلڈز کے انتہائی مشہور اور عالمی سطح پر معروف برگر بگ میک (Big Mac) کے ساتھ نمایاں مطابقت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے عام صارفین میں شدید الجھن پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے درمیان برسوں سے جاری تنازعہ کا ایک اہم موڑ ہے۔
میکڈونلڈز اور سپر میکس کے درمیان یہ قانونی رسہ کشی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب آئرش چین نے یورپی مارکیٹ میں اپنے دائرہ کار کو پھیلانے کی کوشش کی۔ دنیا کی سب سے بڑی برگر چین میکڈونلڈز نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ سپر میکس کا نام اور اس کے علامات بگ میک برانڈ سے ملتے جلتے ہیں، جو ان کے تجارتی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یورپی یونین کے متعلقہ حکام نے اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مؤقف اختیار کیا کہ برگر مارکیٹ میں برانڈز کی شناخت کی واضح تمیز ہونا ضروری ہے تاکہ خریدار دھوکے کا شکار نہ ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ کاروباری دنیا میں ٹریڈ مارک کے قوانین کی سختی اور برانڈ کی ملکیت کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ سپر میکس کے لیے یہ ایک بڑا دھکا ہے جو طویل عرصے سے اپنے نام پر پابندیوں یا نام کی تبدیلی کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ دوسری طرف، میکڈونلڈز نے اس فیصلے کو اپنے فکری املاک کے حقوق کی بڑی فتح کے طور پر دیکھا ہے، جو ان کے عالمی سطح پر قائم کردہ برانڈ کی ساکھ کو مزید تقویت دیتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا سپر میکس اس عدالتی یا انتظامی حکم کے خلاف کسی اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرتا ہے یا اپنے برانڈ کی حکمت عملی میں کوئی بنیادی تبدیلی لاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ انڈسٹری اس مقدمے کے تمام مراحل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس قسم کے فیصلے مستقبل میں دنیا بھر کے برانڈز کے نام رکھنے اور ان کے کاپی رائٹس کے تنازعات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔