World
اٹلی اور اسپین میں سرحدی چیکنگ پر تنازعہ اور کشیدگی
اٹلی نے اسپین کی جانب سے جوابی اقدامات کی وارننگ کے باوجود اپنی سرحدوں پر چیکنگ کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کشیدگی میڈرل اور روم کے درمیان سیوطہ کے مہاجرین کے بحران کے تناظر میں پیدا ہوئی ہے۔
اٹلی کی حکومت نے تمام تر بین الاقوامی اور علاقائی دباؤ بالخصوص اسپین کی جانب سے ملنے والی جوابی اقدامات کی دھمکیوں کے باوجود اپنی سرحدوں پر سخت چیکنگ اور جانچ پڑتال کا عمل جاری رکھنے کا واضح اعلان کیا ہے۔ اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی اور سرحدی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے جائیں گے۔ یہ سارا تناظر حال ہی میں سیوطہ کے مہاجرین کے بحران کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اور انتظامی اثرات کا نتیجہ ہے جس نے دونوں اہم یورپی ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
دوسری جانب اسپین کی حکومت نے روم کے اس رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے باہمی تعاون کی روح کے خلاف قرار دیا ہے۔ میڈرڈ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر اٹلی نے اپنی پالیسی پر نظرثانی نہیں کی اور سرحدی چیکنگ کا یہ سلسلہ بند نہ کیا تو اسپین بھی سخت اور متناسب جوابی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا۔ ہسپانوی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے پورے خطے میں مہاجرین کے انتظام اور نقل و حرکت کے نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یورپی یونین کے حلقوں میں بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں ممالک نے سفارتی سطح پر اس مسئلے کا فوری حل تلاش نہ کیا تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور اس سے شینگن زون کی آزادانہ نقل و حرکت کے اصولوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یورپی یونین کے مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ رکن ممالک کو باہمی مشاورت اور یکجہتی کے ذریعے مہاجرین کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے نہ کہ سرحدی بندشوں کے ذریعے فاصلے بڑھانے چاہئیں۔