World
آبِ ہرمز بحری مشن: امریکہ اور یورپ میں اختلافات سامنے آگئے
امریکہ کی جانب سے آبِ ہرمز میں بحری مشن کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تاہم یورپی ممالک نے اس معاملے پر احتیاط اور تذبذب کا مظاہرہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فرانس اور برطانیہ ایران کے ساتھ کسی بھی بڑی محاذ آرائی سے بچنا چاہتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے آبِ ہرمز میں ایک نیا بحری مشن تشکیل دینے اور اس میں اتحادیوں کی شمولیت کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا रहा ہے، تاہم برصغیر اور یورپ کے اہم دارالحکومتوں بالخصوص لندن اور پیرس میں اس حوالے سے شدید تذبذب پایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور فرانس اس وقت خطے میں کسی ایسی صورتحال کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں جو تہران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی یا جنگ کا سبب بن سکے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی ممالک اس وسیع تر جنگ کے معاملے میں پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل سے ایک خاص فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یورپی رہنماؤں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راہداریوں میں شامل ہے جہاں سے تیل کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی حکومتیں کسی بھی جلد بازی میں اٹھائے گئے قدم کے منفی اثرات سے سخت خائف ہیں۔
امریکہ کی جانب سے مسلسل دباؤ کے باوجود، یورپی ممالک کی یہ ہچکچاہٹ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے درمیان موجودہ پالیسی کے فرق کو واضح کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فرانس اور برطانیہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو عسکری بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش خطے کو ایک طویل اور پرتشدد بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ اس پس منظر میں، یورپی سفارت کار اس وقت ایسے متبادل لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں جو سمندری راستوں کی سلامتی کو بھی یقینی بنائے اور تہران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا خطرہ بھی مول نہ لینا پڑے۔