LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ بار کا نئے صوبوں کے قیام کے حق میں بیان

News Image
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ملک میں بہتر نظم و نسق کے لیے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کی بھرپور حمایت کی ہے۔ پی بی سی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام آئینی معاملات کو آئین کے دائرہ کار میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے ملک میں بہتر گورننس اور انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی تجویز کی باضابطہ تائید کر دی ہے۔ وکلاء کی استھ سرکردہ تنظیم کا ماننا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام ملک میں نچلی سطح پر منصفانہ انتظامی امور، مساوی اقتصادی ترقی کے مواقع اور مضبوط سیاسی استحکام کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ یہ خیالات سپریم کورٹ میں جسٹس مسرور ہلالی کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس کے دوران ایس سی بی اے کے صدر ہارون الررشید نے اظہار خیال کرتے ہوئے پیش کئے۔ ریفرنس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کی جبکہ اس میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان، پاکستان بار کونسل کے نمائندگان اور وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب، اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان بار کونسل کے ڈھائی سوویں اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق تمام امور کو آئینی حدود اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق ہی طے کیا جانا چاہیے۔ پی بی سی نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد میں اس اہم معاملے پر باضابطہ اور جامع بات چیت کا آغاز کریں تاکہ وسیع قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے، جس کے لیے ایک قومی سیمینار کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ ایس سی بی اے کے صدر نے اس موقع پر چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کی بھی حمایت کی اور انہیں پارلیمنٹ کی بالادستی اور اختیارات کی تقسیم کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا۔ انہوں نے صدر مملکت سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ جوڈیشوم کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ججوں کی تقرری سے متعلق سفارشات کی جلد منظوری دیں۔ ریفرنس کے اختتام پر تمام رہنماؤں نے جسٹس مسرور ہلالی کی عدلیہ کے لیے گراں قدر خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔