Politics
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ اس تاریخی پیش رفت کو خطے کی سلامتی اور مسلم امہ کے استحکام کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان جمعہ کے روز مکہ مکرمہ میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت رکن ممالک میں سے کسی ایک پر بھی ہونے والے حملے کو تینوںممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے خطے میں اجتماعی سلامتی کے نظام کو مزید تقویت ملے گی۔ مکہ المکرمہ سمٹ فار جوائنٹ ڈیفنس کے موقع پر صفا पैलس میں منعقدہ تقریب میں یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان، اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی موجودگی میں طے پایا۔ اس تاریخی معاہدے کے بعد عالمی اور علاقائی سطح پر سیاسی رہنماؤں، مبصرین اور دفاعی ماہرین کی طرف سے اس پر بھرپور تبصرے کیے جا رہے ہیں اور اسے خطے کا ایک بڑا اسٹریٹجک موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اس دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف اور تینوں برادر ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون کا فریم ورک تینوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بالکل نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ دوسری جانب، سعودی وزیر خارجہ شہزاده فیصل بن فرحان نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان گہرے اور تزویراتی تعلقات کا مظہر ہے اور یہ خطے میں پائیدار سلامتی اور ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے بھی اس پیش رفت کو مسلم امہ کے لیے ایک بہترین شگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ امتِ مسلمہ کے باہمی بھائی چارے اور سلامتی کے لیے بنیادی ستون ثابت ہوگا۔
بین الاقوامی ماہرین نے بھی اس معاہدے کے مختلف اسٹریٹجک اور جغرافیائی سیاسی اثرات کا تجزیہ کیا ہے۔ کنگز کالج لندن کے اینڈریاس کرینگ کے مطابق، یہ معاہدہ واشنگٹن پر روایتی انحصار سے ہٹ کر سیکیورٹی کے متبادل اور متنوع دائرہ کار تیار کرنے کی عکاسی کرتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر یہ ممالک اپنے مفادات کا خود تحفظ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے سعودی عرب کو علاقائی سلامتی کے بندوبست میں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا جبکہ پاکستان اور ترکیہ کو بھی سیاسی و اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کی سینئر فیلو برجو اوزچیلک کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ طویل عرصے سے جاری علاقائی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد خطے کی طاقتوں کو دفاعی ذمہ داریوں میں مزید شریک کرنا ہے۔
اس معاہدے کے نفاذ سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کے نئے دروازے کھل گئے ہیں، جو نہ صرف دفاعی خودمختاری کو فروغ دیں گے بلکہ اقتصادی اور سیاسی سطح پر بھی دیرپا شراکت داری کی بنیاد رکھیں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سہ فریقی فریم ورک کے ذریعے مسلم دنیا کے بڑے ممالک نے باقاعدہ طور پر ایک مربوط سیکیورٹی ڈھانچے کی طرف عملی قدم اٹھا لیا ہے، جو مستقبل میں کسی بھی ناگہانی خطرے سے نمٹنے کے لیے کلیدی حیثیت کا حامل ہوگا۔