LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور لیبر مارکیٹ: نیویارک فیڈ کی نئی معاشی تحقیق

News Image
نیویارک فیڈرل ریزرو کی جانب سے لیبرٹی اسٹریٹ اکنامکس پر ایک نئی سیریز کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد معاشی تحقیق اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کا احاطہ کرنا ہے۔ اس سیریز میں مصنوعی ذہانت کے محنت کشوں اور روزگار کے مواقع پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کی لیبر مارکیٹس اور ملازمین کی بھرتی کے روایتی طریقوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں نیویارک فیڈرل ریزرو کے ریسرچ ڈائریکٹر نے لیبرٹی اسٹریٹ اکنامکس پر 'اسٹریٹ لیول' کے نام سے ایک نئی معلوماتی سیریز کا آغاز کیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد نیویارک فیڈ کے ماہرین معاشیات کی تیار کردہ وسیع پیمانے پر تحقیق کو عام فہم انداز میں پیش کرنا اور معاشی موضوعات پر مباحثے کو آگے بڑھانا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نفاذ سے اداروں کے کام کرنے کے انداز میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جو بالآخر لیبر مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گی۔ نئی سیریز کے تحت وقتاً فوقتاً ایسے موضوعات پر بحث کی جائے گی جو براہ راست عام معیشت، ملازمین اور کاروباری اداروں کو متاثر کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد سے کمپنیوں میں ہائرنگ کے عمل کے دوران امیدواروں کی جانچ پڑتال کے لیے خودکار سسٹمز اور اے آئی الگورتھم کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ ٹیکنالوجی اداروں کے لیے وقت کی بچت کا باعث بن رہی ہے، وہیں دوسری طرف کارکنوں کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔ اس تحقیقی سیریز کا مقصد اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہے کہ کس طرح مختلف صنعتیں اس تبدیلی کو اپنا رہی ہیں اور لیبر فورس پر اس کے طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے۔ اس کے علاوہ، نیویارک فیڈ کی یہ تحقیق اس امر پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ بدلتی ہوئی معاشی صورتحال میں کارکنوں کو کن نئی مہارتوں کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کام کی جگہوں پر عام ہو رہی ہے، روایتی نوکریوں کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور نئی قسم کی ملازمتیں جنم لے رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کی تحقیق پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے تاکہ وہ مستقبل کی معاشی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت فیصلے کر سکیں۔ 'اسٹریٹ لیول' سیریز آنے والے دنوں میں اس اہم موضوع پر مزید گہرے معاشی تجزیے اور اعداد و شمار پیش کرے گی۔