Business
مائیکرون اے آئی بزنس: بینک آف امریکہ کا چینی حریف پر مؤقف
بینک آف امریکہ نے مائیکرون ٹیکنالوجی کے لیے چینی حریف کی جانب سے لاحق خطرات کو کم اہم قرار دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی تشویش کے باوجود امریکی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پیش رفت کا کمپنی کے کاروبار پر فوری طور پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑے گا۔
حال ہی میں مائیکرون ٹیکنالوجی (MU) کے حصص میں اس وقت کمی دیکھی گئی تھی جب جولائی کے آخر میں ایک چینی حریف کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار انٹری ہوئی۔ اس نئے حریف کے آنے سے وہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شامل ہو گئی، جسے مارکیٹ کے سرمایہ کاروں نے مائیکرون کے لیے ایک بڑے انتباہی سگنل کے طور پر لیا تھا۔ مارکیٹ میں یہ خوف پھیل گیا تھا کہ چینی کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں امریکی کمپنیوں کو سخت ٹکر دے سکتی ہیں جس سے ان کے منافع اور شیئر کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تاہم، معروف مالیاتی ادارے بینک آف امریکہ (BofA) نے اس صورتحال پر اپنے تجزیے میں چینی خطرے کو زیادہ سنگین ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ بینک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین کی مقامی مارکیٹ میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور نئی کمپنیاں ابھر رہی ہیں، لیکن عالمی سطح پر مائیکرون ٹیکنالوجی کی پوزیشن اور اس کی جدید ترین ہائی بینڈ وڈتھ میموری (HBM) مصنوعات کی مانگ بدستور مضبوط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مائیکرون کا اے آئی بزنس اپنی منفرد تکنیکی برتری اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے چینی حریفوں کی پہنچ سے فی الحال کافی آگے ہے۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد مائیکرون کے سرمایہ کاروں کو بڑی حد تک حوصلہ ملا ہے جو حالیہ گراوٹ کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار تھے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عالمی سیمی کنڈکٹر کی صنعت اتنی وسیع ہے کہ اس میں متعدد بڑے کھلاڑیوں کے لیے ترقی کی گنجائش موجود ہے۔ اگرچہ چین اپنی تکنیکی خود کفالت کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے، لیکن عالمی سپلائی چین اور اے آئی کے شعبے میں مائیکرون جیسی قائم شدہ کمپنیوں کا کردار آنے والے برسوں میں بھی انتہائی اہم رہے گا اور قلیل مدت میں چینی حریف کوئی ایسا فوری خطرہ پیدا نہیں کر سکتے جو مائیکرون کی مارکیٹ ویلیو کو گرا سکے۔