Technology
ٹرمپ انتظامیہ کی اے آئی پالیسی اور امریکی اسٹاکس میں تیزی کا امکان
امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کی جانب سے چینی ٹرانسیورز پر پابندی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ چین کی عالمی سپلائی پر پچاس فیصد سے زائد اجارہ داری کے باعث یہ اقدام امریکی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے بڑا موقع بن سکتا ہے۔
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ممکنہ اقدامات اور فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کی نئی پالیسیوں کے تحت ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف سی سی ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت چینی ساختہ ٹرانسیورز پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ چین اس وقت عالمی سطح پر ٹرانسیورز کی سپلائی کا پچاس فیصد سے زائد حصہ کنٹرول کرتا ہے، اور اس پابندی سے عالمی سپلائی چین میں ایک بڑا تعطل یا رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کے بعد امریکی مینوفیکچرنگ کے متبادل ذرائع کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال میں امریکی کمپنیاں جن میں خاص طور پر AAOI اور COHR شامل ہیں، نمایاں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ چونکہ امریکی مارکیٹ اب اندرونی پیداوار اور مقامی سپلائی چین کی طرف مائل ہو رہی ہے، لہذا ان کمپنیوں کے حصص یا اسٹاکس میں مستقبل قریب میں زبردست تیزی اور اڑان دیکھی جا سکتی ہے۔ سرمایہ کار اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ پالیسی تبدیلیاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے کھلاڑیوں کو ابھارنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ مزید برآں، یہ اقدام امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے محاذ پر جاری مسابقت کو مزید تیز کر دے گا۔ اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے درکار آلات کی فراہمی میں اس قسم کی رکاوٹیں جہاں ایک طرف چیلنجز پیدا کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف مقامی مینوفیکچررز کے لیے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا سنہری موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ممکنہ پابندیاں باضابطہ قانون کی شکل اختیار کرتی ہیں اور اس کا امریکی اسٹاک مارکیٹ پر مجموعی طور پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔