Health
عالمی ہفتہ برائے دودھ پلانا: ماہرین کا سخت پالیسیوں کا مطالبہ
عالمی ہفتہ برائے ماں کا دودھ پلانے کے موقع پر منعقدہ ایک مباحثے میں صحت کے ماہرین نے نوزائیدہ بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے ماں کا دودھ پلانے سے متعلق پالیسیوں کو مزید سخت اور مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے معاشرتی سطح پر آگاہی پھیلانا اور حکومتی سطح پر سازگار ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
عالمی ہفتہ برائے ماں کا دودھ پلانے کے سلسلے میں منعقدہ ایک اہم مباحثے کے دوران صحت اور طب کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے زور دیا ہے کہ بچوں کی ابتدائی زندگی میں ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مزید مؤثر اور سخت پالیسیاں وضع کی جائیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ نوزائیدہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ابتدائی مہینوں میں صرف ماں کا دودھ پلانا انتہائی ضروری ہے، لیکن اس حوالے سے موجودہ پالیسیوں میں اب بھی بہت سی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
اس موقع پر مقررین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک کے مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے اس موضوع پر آگاہی کیمپ اور سیمینارز کا انعقاد ایک مثبت قدم ہے، تاہم زمینی حقائق کو بدلنے کے لیے حکومتی اور نجی سطح پر پالیسی سطح پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام کرنے والی ماؤں کے لیے دفاتر اور عوامی مقامات پر خصوصی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ بلا کسی رکاوٹ کے اپنے بچوں کو دودھ پلا سکیں۔
مباحثے کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ معاشرے کے ہر طبقے تک یہ پیغام پہنچائیں گے کہ ماں کا دودھ بچوں کو کئی خطرناک بیماریوں سے بچاتا ہے اور ان کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتا ہے۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماں کا دودھ پلانے کی روایت کو فروغ دینے کے لیے قانون سازی کو مزید سخت کرے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائے۔